The Dam .. 

Sharing is caring? We often bury our secrets to what seem a deep chest with a never opening lock- so enduring that its impossible to believe it can ever break open. We also bury a part of ourselves. Expecting the treasure chest would never be found by the dishonest pirates. Expecting to get a guide. Believing our secret is considered not a drop in the ocean, but a pearl hidden within its vastness. But we expect too much…

Anyone with such a deep sense of trust is hard to find. In a world of today, if a person bears witness of showing themselves so honest- trust me its a warning! If a person starts to compliment you in an exaggerated way, be vigilant for there’s a purpose behind it. The moment their work is done, you’ve become useless to them. People become so bias and so immature, sometimes its hard to believe they have more experience in life than we’ve had uptill now. Gradually it becomes a stubborn habit. The habit of pleasing everyone, showing “we care” “we support” “we’re here”, pretending dual characters, never giving a sincere opinion and taking relations for granted… Wow, they don’t even get tired! 

… It’s also a part of the society that broughts up.  Probably of the busy life and frustrated surroundings. Not only the professions, but the corruption, the exaggeration in media and the social networks proves we are living a techno robotic life.. Where we expect a reply or a solution to our problems almost instantly.

…People have failed to realise they possess a dam within themselves. It may contain infinite memories, a tonne of trust and a billion of secrets. Its a matter of realization how deep the dam maybe, or a matter of choice how deep you want it to be. Either you chose the superficial land beside where everything is open for everyone to come and see and enjoy ..or you chose to be the deepness of trust where looking from above makes you wonder what lies beneath.. There shouldn’t be anything gray…


 

Advertisements

جاد اللہ القرآنی

​یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے، کہ فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو “انکل ابراہیم” کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ، آئسکریم اور گولیاں، ٹافیاں دستیاب تھیں …!
اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روزانہ ہی انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد نے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی، ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا :

” جاد …! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا …؟ ”

انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ :

” آپ اگر مجھے معاف کر دیں، تو آئندہ وہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا ”
مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا : 

“اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔”

اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا …!
وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے کہ کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتے، جاد کو مسئلے کا حل بتاتے، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا …!
اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کرتے سترہ سال گزر گئے۔ سترہ سال کے بعد جب جاد چوبیس سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابرہیم بھی اس حساب سے سڑسٹھ سال کے ہوچکا تھے ۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات پا گئے …!
اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی، اُن کی وصیت تھی کہ :

” اس کے مرنے کے بعد یہ صندوقچی اس یہودی نوجوان جاد کو تحفہ میں دیدی جائے …! ”
جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکے غمگسار اور مونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا …!
جاد، انکل کی نشانی گھر میں رکھ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو گیا۔ مگر ایک دن اُسے کسی پریشانی نے آ گھیرا، “آج انکل ہوتے تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا” جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسوؤں نکل آئے …!
“کیوں ناں آج میں خود کوشش کروں …!” 

کتاب کھولتے ہوئے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوا، لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ :

” مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ ”
مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا :

” یہ کیسی کتاب ہے …؟”
تیونسی نے کہا :

” یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے …! ”
جاد نے پوچھا :

” مسلمان کیسے بنتے ہیں …؟ ”
تیونسی نے کہا :

” کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں …! ”
جاد نے کہا : 

” تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ ان محمد رسول الله …! ”
جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے “جاد اللہ القرآنی” کا نام پسند کیا۔ نام کا اختیار اس کی قرآن سے والہانہ محبت کا کھلا ثبوت تھا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کی …!
یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبل کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط کیے ہوئے تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:

” ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة ”

” اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ …! ”
جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت جاد اللہ نے اس وصیت پر عمل کرنے کی ٹھانی، اور ساتھ ہی جاد اللہ نے یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا، دعوت حق کیلئے ہر مشکل اور پرخطر راستے پر چلنے سے نہ ہچکچایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا …!
جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ سن 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چوئن سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے …!
جاد اللہ کی محنت کے ثمرات ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد ان کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا …!
جاد اللہ اکثر یاد کیا کرتے تھے کہ انکل ابراہیم نے اس کے سترہ سالوں میں کبھی بھی اسے غیر مسلم محسوس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کبھی کہا کہ اسلام قبول کر لو۔ مگر اس کا رویہ ایسا تھا کہ جاد کا اسلام قبول کیئے بغیر چارہ نہ تھا  …!
 آپ کے سامنے اس واقعے کے بیان کرنے کا فقط اتنا مقصد ہے کہ، کیا مجھ سمیت ہم میں سے کسی مسلمان کا اخلاق و عادات و اطوار و کردار ” انکل_ابراہیم “جیسا ہے کہ کوئی غیر مسلم جاد ہم سے متاثر ہو کر ” جاد_اللہ_القرآنی ” بن کر میرے مذہب اسلام کی اس عمدہ طریقے سے خدمت کر سکے …
اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار و سیاہ کار سمیت ہم سب مسلمانان عالم پر بےحد رحم فرمائے اور عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے …!
دوستوں چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ….!

The Three Letters of Downfall

What defines “the chaos of life”? You being so busy that you’re unable to take out time to sit with family? Your stubbornness when a junior asks you for a favour ? Your frustrations when little things you think you can manage gets so haphazard? Eventually, it leads all to an ultimate end of a good brought up or should I say the grooming of your parents when you start boasting your ego. The three letter word that leads us all to downfall, little do we understand don’t we?

Man, no doubt has to some extent a superiority over women. They earn and face the excruciating and disgusting world outside. Running for jobs, dealing with gruesome people and above all trying to save money in a world of today- where it seems the money gets down the drain so quickly no matter how you save. They are tough and brought up by the stereotype, ‘men don’t cry’.  That’s exactly where the EGO steps in. 

Women look after household and some even work and do chores too. And by chores I could go on in a list of never ending work. Make dinner of their husband’s choice, wash clothes, clean the house, do the dishes, solve inlaws issues,  then they have the cranky dependant babies to look after.. And still remain tip top for their husbands in the eve. Some are even working women who do double jobs of balancing the outside and inside world together. If she demands some time to rest is it necessary she gets taunted in a way she never want to do anything for her sake? 

Why does ego gets misunderstood as “confidence” “power to rule” and “intelligent dealings”. Is it important we crush the one beneath us so harshly, forget about hurting the other person won’t even want to talk to you. Ever realized why you were made an authority? Was it to rule over and gain power by insulting? Doesn’t it lead to more frustrations in a society- eventually a working space gets disintegrated and the blame games start. The vicious cycle begins where two personalities full of pride fail to understand their ruining the world in small or a larger scale on whole. 

I know frustrations are everywhere, there are little who know how to deal with them perfectly and wisely. I love such people and always try to learn from such kinds who put others first and not their wishes ahead of themselves. The teachings of our Prophet (S.A.W. W) show that he practised his life that revolves around the famous quote, ” forgive and let go” trust me, its so not easy in this world we live now. Now is the life with which even the wolf has asked forgiveness. People are after the happiness you share, the pride you show when your child achieves higher marks in class, the confidence you feel when you show you’re independent. They would never stop, why? Because you’re hurting them. Affecting their “look busy, do nothing” lives and teasing their ego. Trust me, you shouldn’t stop, its their sickening thoughts with which they’re brought up. Ego. They think its their win-win, but it’s actually yours if you ponder and let them go- remember karma? It lies there hiding and waiting for the right moment to come. And it will, inshaaAllah. 

Is He really hidden?

Intuitions. How can one define them? Gut instincts.. Sixth sense.. True feelings. People gave synonyms to make sense, yet it needs much experience to expert them. What matters the most is the way we approach these intuitions and how we gain trust in them.

At times, we are intrigued by the fame of celebrities.. The posh lifestyle of a modern, elite family… attracted to anyone’s fascinating accent… Cheered up by humor of someone who loves to make jokes on anyone, anytime. Still, there lies a deep, deep wisdom in the voice that always shouts within us, ‘this isn’t right.. You’re not meant for this’ to not crossing lines and staying decently away.. But we learn by experiences don’t we? 

Sometimes, some of us get overwhelmed by feelings of “trust” in someone so quickly, yet when they slam the world in front of us by their behavior we eventually learn this quick “trust” was a danger sign to not go beyond frankness and friendliness. Another experience?

It’s true you shouldn’t expect anything from anyone, and accept the fact that no one would ever realize what you’re going through.. What you’ve been through.. And what they are making you go through. I’ve been brought up by stories of my Prophet (S.A.W.W)  to show kindness to those who do harm to you, to respect your elders no matter how rude one becomes, always help those in need with your intentions of expecting a reward only from your Lord. 

Try to look beyond those mere co incidences that happen in everyday life. You woke up early, got ready and left for your job but during the way got stuck in a huge traffic jam which made u reach on time somehow.. Coincidence? 

Or maybe you despised a place to work but gave interview anyway, later the company you dreamed to work in got defamed by faults and frauds and you realize the place you work is best for you.. Another coincidence?

Sometimes even little things like a dress color you were unsure to wear actually was the theme of the party and you didn’t know … While ordering something you gave order for a great good amount and later got uninvited guests … You ‘accidently’ took a wrong turn and showed up at a market you werent planning to buy groceries-but hey! There’s a summer sale!! Surprised?

These things in life aren’t coincidences, its something that has been decreed for you before the establishment of the universe. Something so peculiar about it is the fact you can’t deny but take a sigh of relief these incidents happened. Think for a while was it you who planned it or was Allah the planner? Was it you to take care of the billion things out of your sight and wisdom or is it Allah who manages that which you see not? 

Why is it so hard these days to merely believe the fact Allah created us and He has the knowledge so vast- from a single bacteria that got destroyed in our body to the intention of another person talking to you on phone miles and miles away. Who is the Creator and Planner now? So when we think of ourselves and the problems we face in daily life,just have blind trust in Allah.

….. He would caress you the way a mother cares for the child..making you learn hand in hand .. Staying quiet like a teacher when tests are taken.. Looking over you with love and protection  when you’re asleep.. And providing provision to you when YOU think you don’t deserve/ can’t afford/ won’t like to have.. Making you go through trails of agony so you become sober and realize His existence. 

Trust me He isn’t hidden. Trust me, its not your intuition, but guidance from Allah. Trust me, its a blessing when He gives you this opportunity to trust Him and He will make this world and hereafter the best place to be .. And the key?  all you have to do is a thank you. 

Often, dark rooms have switches hidden which you have to seek so you lit it up.. Seek your Lord, He would seek you. 

پیشن گوئیاں

اللّٰه کے رَسُول  صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا: کہ 
اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور فخر کریں گے۔ (صحیح مسلم 8)
Tallest_structures_in_Middle_East
میں ریاض شہر کو دیکھ کر حیران رہ گیا، عمارتوں کایہ مقابلہ آج اپنے عُروج پر پہنچ گیا، دبئی میں ’’برج خلیفہ‘‘ کی عمارت دنیا کی سب سے اُونچی عمارت بن گئی تو ساتھ ہی شہزادہ ولید بن طلال نے جَدَّہ میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے جو دھڑا دھڑ بنتی چلی جا رہی ہے، یعنی مقابلہ اپنی اِنتہا پر پہنچ چکا ہے کہ عرب دنیا کی عمارتیں سارے جہان سے اونچی ہو چکی ہیں۔
بتلانے کا مقصد صرف یہ کہ میرے پیارے رسول حضرت مُحمَّد کریم  صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وہ پُورا ہو چکا ہے اور پیشگوئی پُوری ہو کر اپنے نُکتۂ کمال کو پہنچ چکی ہے.
اس کے بعد اُصولِ دُنیاوی ’’ہر کمال رَا زَوَال اَست‘‘ کہ ہر کمال کے لئے زوال ہے، زوال کا آغاز بھی ہوچکا ہے کہ گاڑیاں صِرف تیل پر نہیں رہیں بلکہ گیس، بیٹری اور سولر انرجی وغیرہ سے بھی چلنا شروع ہو گئیں۔
تیل دیگر ملکوں سے بھی بہت زیادہ نکلنا شروع ہو گیا اور ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ
عرب کا سب سے زیادہ تیل خریداری کرنے والے امریکہ نے صَدَّام کو ختم کرکے  تیل کی دولت سے سَیراب مُلک عِرَاق پر اپنی کٹ پُتلی شِیعَہ حکومت بنا کر تیل کے کنوؤں پر قبضہ جما لیا ہے اور لاکھوں بیرل مُفت وصول کر رہا ہے تو پھر تیل کی گِرتی مانگ نے تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا جس سے عرب ممالک کا سُنہرا دَور خاتمے کے قریب ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے اس زوال کے بعد کیا ہے؟
اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیث ہے کہ قیامت سے پہلے سَرزَمینِ عرب دوبارہ سَرسَبز ہو جائیگی۔۔۔ (صحیح مسلم
کون سوچ سکتا تھا کہ سَرزمینِ عرب کے صحراء اور خُشک پہاڑ کہ جسے اللّٰه تعالیٰ نے خُود حضرت ابراہیم عَليهِ السَّلام کی زبان سے ’’بِوَادٍ غَیر ذِی زَرع‘‘ بے آب و گیاہ وَادِی قرار دیا۔ وہ سَبزے سے لہلا اٹھے گی……
چُنانچہ پُوری دُنیا میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کے نَقَّارے بَجنے لگے، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سعودی عرب اور امارات میں بارشیں شروع ہو چکی ہیں۔ اتنی بارشیں اور ہوائیں کہ سیلاب آنا شروع ہو گئے ہیں، مَکَّہ اور جَدَّہ میں سَیلاب آ چکے ہیں۔
ایک سَیلاب چند دن پہلے آیا ہے جس سے چند افراد لُقمۂ اَجَل بھی بن چکے ہیں، اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کو کام میں لا کر سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے۔ سعودی عرب گندم میں پہلے ہی خودکفیل ہو چکا ہے، اب وہاں خشک پہاڑوں پر بارشوں کی وجہ سے سبزہ اُگنا شروع ہو چکا ہے، پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو ڈیم بنانا ہوں گے جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی، ہریالی ہو گی، سبزہ مزید ہو گا، فصلیں لہلہائیں گی، یُوں یہ پیشگوئی بھی اپنے تکمیلی مَرَاحِل سے گزرنے جا رہی ہے اور جو میرے حضور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں.
اگر احادیث پر غور کریں تو مَشرقِ وُسطیٰ کے زوال کا آغاز مُلکِ شام سے شروع ہوا لیکن شاید عرب حُکمران یا تو یہود و نصاریٰ کی چال سمجھ نہ سکے یا بے رخی اختیار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو سرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی بتائی ہوئی علامات کو تو ظاہر ہو نا ہی تھا حدیث کے مطابق
چُنانچہ حدیث پاک میں ارشاد ہے
ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺟﺐ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔
(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)
cover---afp-getty_1445926605
یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ! ﺍَﺣﺎﺩﯾﺚِ ﻣُﺒَﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﻭ ﺍﮨﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴﺘﮧ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ مُلکِ شام ایسے ہی ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮتے رها ﺗﻮ
ﭘُﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔۔ ویسے تو 90 فیصد برباد ہو چکا………
اب جبکہ پانچ سالہ خُونریزی میں 8 لاکھ سُنّی بےگناه بَچّے، بُوڑھے، عَورتیں شہید اور لا تعداد دُوسرے مُلک کی سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے
لہٰذا شام مُکمَّل تباہی کے بعد اب نزع کی حالت میں ہے.
اس حدیث کے حساب سے عرب ممالک کے سُنہرے دَور کے خاتمہ کی اہم وجہ مُلکِ شام کے مَوجُودَہ حالات ہيں.
گویا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم  کی ایک اور  پیشگوئی کی عَلامَت ظاہر ہو رہی ہے یا ہو چکی……..
یاد رکھیں! کہ مُلکِ شام کے مُتعلّق اِسرائیل، رُوس، ایران و امریکہ جو بھی جھوٹے بہانے بناے لیکن ان سب کا اَصل ہَدَف جَزیرَةُالعَرَب ہے کیونکہ کُفَّار کا عقیدہ ہے کہ دَجَّال مَسِیحَا ہے اس وجہ سے یہ لوگ دَجَّال کے اِنتظامات مُکمَّل کر رہے ہیں جس کے لیے عرب ممالک میں عَدمِ اِستحکام پیدا کرنا ہے کیونکہ مُلکِ شام پر یہود و نصاریٰ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور  یہ ہو کر رہیگا حضرت مہدی عَلیهِ السَّلام کے ظہور سے قبل…
چُنانچہ کتابِ فِتَن میں ہے کہ
آخری زمانے میں جب مُسلمان ہر طرف سے مَغلوب ہوجائیں گے، مُسلسل جَنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی،   عُلماء کرام سے سُنا کہ سَعُودی، مِصر،  ترکی بهى باقى نہ رہیگا ہر جگہ کُفَّار کے مظالم بڑھ جائیں گے، اُمَّت آپسی خَانہ
جَنگی کا شِکار رہےگی.
عرب(خلیجی ممالک سعودی عرب وغیرہ) میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہےگی، خَیبَر (سعودی عرب کا چھوٹا
شہر مَدینةُالمُنَوَّره سے 170 کم فاصلے پر ہے) کے قریب تک یہود و نصاریٰ پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مَدِینةُالمُنَوَّرَه پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی عَليهِ السَّلام مدینہ منورہ میں ہوں گے،
دُوسری طرف دریائے طبریہ بھی تیزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہدی عَلیہِ السَّلام کے ظہور سے قبل خُشک ہو گی…
اسلئے  جب مَشرقِ وُسطیٰ کے حالات کو خُصُوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولناکیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔
فرانس میں حَالیہ حَملوں کے بعد فرانس اور پوپ بھی عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے اس عالمی جنگ کا مرکز کون سا خطہ ہو گا…؟ وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشرقِ وُسطیٰ ہی مُتَوَقّع ہے….
یہاں بھی ہند و پاک کی رَنجِشیں اور کشمکش کے بڑھتے حالات سے بھی لگتا ہے کہ غَزوۂ ہند کی طرف رُخ کر رہے ہیں کیونکہ
حضرت ابو ہریرہ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا:
’’میری قوم کا ایک لشکر وَقتِ آخِر کے نزدیک ہند پر چَڑھائی کرے گا اور اللّٰه اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا، یہاں تک کہ وہ ہند کے حُکمرانوں کو بیڑیوں میں جَکڑ کر لائیں گے۔ اللّٰه اس لشکر کے تمام گناہ معاف کر دے گا۔ پھر وہ لشکر وَاپس رُخ کرے گا اور شام میں موجود عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا۔‘‘ 
حضرت ابو ہریرہ رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فرمایا، 
’’اگر میں اُس وقت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اُس لشکر کا حِصَّہ بَنُوں گا۔ اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصیب کرے گا تو میں ابو ہریرہ (جہنم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شام پہنچوں گا تو عیسیٰ ابنِ مَریم عَليهِ السَّلام کو تلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھی رہا ہوں۔‘‘ 
رسول پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَسُّم فرمایا اور کہا، ’’بہت مشکل، بہت مشکل‘‘۔
کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹
آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تھا کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا جس میں فِتنے ایسے تیزی سے آئینگے جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں.